کیلیفورنیا: ایپل کی آئندہ آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق نئے ماڈلز کی قیمتوں میں توقعات سے کم اضافہ کیے جانے کا امکان ہے۔
رواں برس جون میں ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے عندیہ دیا تھا کہ میموری (ریم) کی قلت کے باعث آئی فونز کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا، تاہم انہوں نے اس اضافے کی ممکنہ شرح سے متعلق کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔
اب جے پی مورگن کے ایک تجزیہ کار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپل ہر نئے آئی فون 18 ماڈل کی قیمت میں گزشتہ نسل کے مقابلے میں صرف 50 ڈالر کا اضافہ کرے گا، جبکہ لاگت کم رکھنے کے لیے کمپنی اپنے تیار کردہ سی سیریز موڈیم سمیت دیگر متبادل اقدامات بھی اختیار کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت 1,149 ڈالر جبکہ آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت 1,249 ڈالر ہو سکتی ہے، جو گزشتہ ماڈلز کے مقابلے میں 50 ڈالر زیادہ ہوگی۔
اس سے قبل بعض رپورٹس میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ آئی فون 17 سیریز کے مقابلے میں نئی سیریز کی قیمتوں میں 200 ڈالر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے، تاہم تازہ اندازوں کے مطابق قیمتوں میں اضافہ اس سے کہیں کم رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی تعمیر کے باعث میموری اور اسٹوریج چپس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ان پرزہ جات کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق آئی فون 18 پرو میں استعمال ہونے والے میموری اور اسٹوریج پرزہ جات کی لاگت آئی فون 17 پرو کے مقابلے میں تقریباً 150 ڈالر زیادہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایپل اس سال نئے آئی فونز متعارف کرانے کی حکمت عملی بھی تبدیل کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ستمبر میں آئی فون 18 پرو ماڈلز کے ساتھ ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون پیش کیا جائے گا، جبکہ آئی فون 18 اور آئی فون ایئر 2 کو 2027 کے اوائل میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔