Get Alerts

پنجاب میں فضائی آلودگی کی شدت، شہریوں میں سانس کی بیماریاں بڑھ گئیں

پنجاب میں فضائی آلودگی کی شدت، شہریوں میں سانس کی بیماریاں بڑھ گئیں

لاہور : پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں میں سانس کی بیماریوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں فضائی آلودگی کی شرح نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ اسپتالوں میں ناک، کان اور گلے کے مریضوں کی تعداد میں بھی واضح اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

گوجرانوالہ میں فضائی آلودگی کا سب سے زیادہ سطح پر ریکارڈ کیا گیا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 562 تک جا پہنچا، فیصل آباد میں 436، ملتان میں 344 اور بہاولپور میں 208 ریکارڈ کی گئی۔ لاہور شہر میں بھی فضائی آلودگی کی صورتحال بہت سنگین ہو چکی ہے، جہاں کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 388 تک جا پہنچا، اور اس کے نتیجے میں لاہور پاکستان کے تیسرے سب سے زیادہ آلودہ شہر کے طور پر سامنے آیا۔

لاہور میں مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ راوی روڈ کے علاقے کا AQI 749، سید مراتب علی روڈ کا 515، ٹاؤن شپ کا 500، علامہ اقبال ٹاؤن کا 539 اور گلبرگ تھری کا 571 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں لاہور کا موسم خشک رہنے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے سموگ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کے ساتھ ہی شہریوں میں سانس کی بیماریاں، خاص طور پر گلے اور ناک کی بیماریوں کا پھیلاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ سموگ گنز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اور کارخانوں و بھٹوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

شہریوں سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں اور ماسک کا استعمال کریں تاکہ فضائی آلودگی کے اثرات سے بچا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اقدامات کے باوجود، فضائی آلودگی کا بڑھتا ہوا مسئلہ عوامی صحت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

ٹیگز: