کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے فتنہ الہندوستان سے وابستہ قرار دی جانے والی 9 مطلوب خواتین سے متعلق مصدقہ معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 10 سے 15 لاکھ روپے تک انعام مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کے مطابق مطلوب خواتین کا تعلق گوادر، جیونی اور تربت سے بتایا گیا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
حکومتی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ انعام کا مقصد مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد دینے والی مصدقہ اطلاعات کا حصول ہے اور کارروائی کا تعلق کسی شخص کی جنس، قبیلے یا علاقے سے نہیں بلکہ دہشت گردی اور قانون کی عمل داری سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا کہ چند خواتین کی کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں میں شمولیت کو بلوچ خواتین کی اجتماعی سوچ یا عوامی بغاوت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ حکومت کے مطابق خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا بلوچ معاشرتی روایات کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ان روایات کے استحصال کے مترادف ہے۔
حکومت بلوچستان نے واضح کیا کہ جو بھی شخص ہتھیار اٹھا کر ریاست اور قانون کے خلاف کارروائی کرے گا، اسے قانون کا سامنا کرنا ہوگا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔