وارسا : پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں غیرقانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے 6 ممالک کے وزراء داخلہ کی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔ اس کانفرنس میں پولینڈ کے وزیر داخلہ مارسن کیئرونسکی، ایسٹونیا کے وزیر داخلہ آئیگر ٹارو، لٹویا کے وزیر داخلہ رجررڈز کوزلووسکیز، فن لینڈ کے سٹیٹ سیکرٹری ہیکی ٹیمینن اور لتھوانیا کے وزیر داخلہ گنٹاراس ایلکزنڈراویچیاس نے اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کی۔
کانفرنس میں شریک وزیروں نے پاکستان کی غیرقانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کے خلاف کی جانے والی کوششوں کی بھرپور تعریف کی۔ تمام وزیروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غیرقانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی اور قانونی امیگریشن کو فروغ دینے کے لیے ایک مربوط روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔
کانفرنس میں مشترکہ اقدامات اور مؤثر کوآرڈینیشن پر بھی بات چیت کی گئی تاکہ غیرقانونی امیگریشن کے تدارک میں سب ممالک کے درمیان تعاون بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ داخلی سکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، اور اینٹی نارکوٹکس کے تدارک پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے موجودہ حالات پر بھی روشنی ڈالی اور خاص طور پر پاک افغان سرحد کی صورتحال پر بریف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت افغانستان میں 22 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور پاکستان دنیا اور افغانستان کے درمیان دہشت گردوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔