Get Alerts

مسجد اقصی کھلوانے میں سعودی فرمانروا کا بڑا ہاتھ

مسجد اقصی کھلوانے میں سعودی فرمانروا کا بڑا ہاتھ

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین نے حالیہ چند دنوں کے دوران فلسطین میں ہونے والے واقعات کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد عالمی رہنماوں سے رابطے کئے اور مسجد اقصی کو کھلوانے پر بھی عالمی راہنماﺅں سے بات چیت کی۔
سعودی عرب کے شاہی دیوان سے جاری اعلان کے مطابق اسرائیل پر دباو ڈالنے کیلئے سعودی شاہ کی طرف سے یہ رابطے عمل میں لائے گئے تھے اور ان کا مقصد اسرائیل کو یہ بتانا تھا کہ وہ مسلمانوں پر مسجد اقصی کے دروازے بند کرنے سے باز رہے اور قبلہ اول میں نمازیوں کے داخلے پر عائد ناروا پابندیاں ختم کرے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ”شاہ سلمان کی کوششیں صورتحال کے استحکام اور نمازیوں کے اطمینان، سلامتی اور وقار کو یقینی بنانے کے لئے بار آور ثابت ہوئیں۔ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ مسجد اقصی پر مسلمانوں کے حق ہے۔ اسی حق کے پیش نظر وہ تمام تر آسانیوں اور اطمینان سے وہاں اپنی عبادات ادا کرنے کے مجاز ہیں۔“
بیان کے مطابق سعودی عرب عرب امن منصوبہ، دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ فلسطین کے جامع اور عادلانہ حل کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔