Get Alerts

2001 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایٹمی حملے پر غور کیا تھا، پرویز مشرف

2001 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایٹمی حملے پر غور کیا تھا، پرویز مشرف

دبئی: سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر غور کیا تھا۔ ایک  انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہا کہ 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی اور ایک موقع پر انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر غور شروع کردیا تھا تاہم اس کے نتائج کا سوچ کر انہوں نے اس خیال کو رد کردیا۔

پرویز مشرف کے مطابق اس وقت حالات اس قدر کشیدہ تھے کہ اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے تحمل کی حد عبور نہ ہوجائے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی راتیں جاگ کر گزاریں اور رات بھر یہ سوچتے رہتے تھے اور خود سے یہ سوال پوچھتے تھے کہ آیا انہیں جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنا چاہیے یا نہیں۔سابق آرمی چیف نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ 2002-2001 میں پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس ہی ایسے میزائل موجود نہیں تھے جن میں جوہری مواد موجود ہو لہذا اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا تو میزائل تیار کرنے میں ایک سے دو روز لگتے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے مطابق انہوں نے میزائلوں کو جوہری مواد سے لیس کرنے اور انہیں لانچ کے لیے تیار رکھنے کی ہدایات جاری کی تھیں تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسے احکامات نہیں دیئے تھے اور انہیں یقین ہے کہ بھارت نے بھی ایسا کوئی حکم دیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری حملے کے نتائج کے خیال نے دونوں ملکوں کے اس کے استعمال سے باز رکھا اور دونوں ملکوں نے جنگ سے گریز کیا جس کے بعد کشیدگی کم ہوگئی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں