Get Alerts

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں پر نظر ثانی کیس سننے والابنچ ٹوٹ گیا

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں پر نظر ثانی کیس سننے والابنچ ٹوٹ گیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت اُس وقت مؤخر کر دی گئی جب بنچ کے رکن جسٹس صلاح الدین پنہور نے بنچ سے علیحدگی اختیار کر لی، جس کے باعث کیس سننے والا بنچ ٹوٹ گیا۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد لازم ہے اور ضروری ہے کہ کسی بھی فریق کو بنچ پر اعتراض نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان کی جانب سے بنچ میں شامل کچھ ججز پر اعتراض کیا گیا، اور چونکہ وہ بھی اُن ججز میں شامل ہیں، اس لیے وہ بنچ میں مزید بیٹھنے سے قاصر ہیں۔

جسٹس صلاح الدین نے مختصر فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ججز پر جانبداری کے الزامات تکلیف دہ ہیں اور عوام میں ایسا تاثر جانا کہ جج غیرجانبدار نہیں، عدلیہ کے وقار کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر وہ حامد خان کے طرزِ عمل سے رنجیدہ ضرور ہوئے ہیں، مگر ان کے لیے ذاتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ساکھ مقدم ہے۔

اس موقع پر وکیل حامد خان نے جسٹس صلاح الدین کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم جسٹس امین الدین نے اس تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "یہ خیر مقدم کرنے کا معاملہ نہیں ہے، ہم اس کیس میں سنی اتحاد کونسل کے دوسرے وکیل کو بھی سن رہے ہیں۔"

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل حامد خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "یہ سب آپ کے کنڈکٹ کی وجہ سے ہوا ہے، ہم نے آپ کا لحاظ کرتے ہوئے آپ کو موقع دیا، حالانکہ آپ اس کیس میں دلائل دینے کے حقدار نہیں تھے۔"

بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ دے دیا تاکہ بنچ کی نئی تشکیل یا آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

ٹیگز: