سوات: دریائے سوات میں پانی کے اچانک تیز بہاؤ سے سیالکوٹ سے آئے ہوئے ایک ہی خاندان کے 18 افراد دریا میں بہہ گئے۔ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب خاندان کے افراد دریا کنارے ناشتہ کر رہے تھے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے سوات آیا تھا اور بائی پاس کے قریب دریا کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔ بارش کے باعث دریا میں پانی کا بہاؤ اچانک تیز ہوا اور خاندان کے افراد اس کی لپیٹ میں آ گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق صبح 8 بجے واقعے کی اطلاع ملی جس کے بعد فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ اب تک 3 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ 5 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ باقی افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر سوات کا کہنا ہے کہ دریا کے قریب جانے پر دفعہ 144 نافذ ہے، لیکن اس کے باوجود سیاح احتیاط نہیں برتتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ مسلسل وارننگز جاری کر رہی ہے۔
متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ ان کے 10 افراد دریا میں بہہ گئے، جن میں سے ایک خاتون کی لاش ملی ہے جبکہ 9 بچے تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے دریا کے پاس تصویریں لے رہے تھے کہ اچانک پانی کا ریلا آ گیا۔ ریسکیو کو اطلاع دی گئی، مگر وہ "ڈیڑھ سے دو گھنٹے تاخیر" سے پہنچے اور ان کی موجودگی میں بچے دریا میں ڈوبتے رہے۔