Get Alerts

"یہ عدالت ہے، مذاق کی اجازت نہیں" : جسٹس مندوخیل کا حامد خان سے مکالمہ

اسلام آباد:  سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل اور سینئر قانون دان حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد بینچ تحلیل ہو گیا۔

سماعت کے دوران وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ مکمل بینچ کے بغیر نظرثانی کیس نہیں سنا جا سکتا۔ جس پر جسٹس مندوخیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا   "یہ سپریم کورٹ ہے، مذاق بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ آپ اچھے وکیل ہیں، مگر آپ کا رویہ قابلِ افسوس ہے۔"

حامد خان نے کہا کہ ان کے کنڈکٹ پر بات کرنا نامناسب ہے اور مطالبہ کیا کہ انہیں سنجیدگی سے سنا جائے۔ اس پر جسٹس مندوخیل نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا    "میں اس ادارے کی خاطر اپنی والدہ کی فاتحہ چھوڑ کر آیا ہوں، اور آپ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔"

بعد ازاں عدالت نے وکیل حامد خان کی جانب سے بینچ پر اعتراض مسترد کر دیا اور سماعت ملتوی کر دی گئی۔

ٹیگز: