Get Alerts

برطانیہ کا پناہ گزینوں کے لیے نیا اسپانسر شپ نظام متعارف

برطانیہ کا پناہ گزینوں کے لیے نیا اسپانسر شپ نظام متعارف

لندن: برطانیہ نے روشن مستقبل کے متلاشی اور وہاں آباد ہونے کے خواہشمند افراد کے لیے پناہ گزینوں سے متعلق نئے قانونی راستے متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ رواں سال کے آخر سے پناہ گزینوں کے لیے محدود، محفوظ اور منظم قانونی طریقہ کار شروع کیا جائے گا، جس کے تحت مختلف ادارے اہل افراد کی اسپانسر شپ کر سکیں گے۔

نئے نظام کے مطابق پہلی بار جامعات، کاروباری ادارے، آجر اور کمیونٹی تنظیموں کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ یا منظور شدہ ذرائع سے منتخب حقیقی پناہ گزینوں کی کفالت کریں اور انہیں برطانیہ لانے میں معاونت کریں۔

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق یہ ماڈل کینیڈا کے کمیونٹی اسپانسر شپ سسٹم سے متاثر ہے اور اس کا مقصد غیر قانونی ذرائع، خصوصاً چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ہونے والی آمد کو کم کرنا اور ضرورت مند افراد کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔

حکومت نے تین نئے قانونی راستے متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جن میں کمیونٹی اسپانسر شپ پروگرام، یونیورسٹی اسپانسر شپ پروگرام اور ورک اسپانسر شپ پروگرام شامل ہیں۔ کمیونٹی تنظیمیں پناہ گزینوں کی کفالت کریں گی، جبکہ جامعات اہل طلبہ کو تعلیم کے لیے اسپانسر کریں گی۔ اسی طرح مخصوص آجر شرائط پوری کرنے والے افراد کو روزگار کی بنیاد پر برطانیہ لا سکیں گے۔

حکام کے مطابق یونیورسٹی اسپانسر شپ کے لیے درخواستیں رواں سال کے آخر میں کھولی جائیں گی، جبکہ پہلے مرحلے میں منتخب افراد کی آمد 2027 میں متوقع ہے۔ ورک اسپانسر شپ اسکیم بھی آئندہ سال مرحلہ وار شروع کی جائے گی۔

برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان راستوں کے تحت آنے والوں کی تعداد محدود ہوگی اور ہر درخواست کی سخت سیکیورٹی اور اہلیت جانچ کے بعد ہی منظوری دی جائے گی۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ حکومت حقیقی پناہ گزینوں کے لیے قانونی راستے کھول رہی ہے، تاہم غیر قانونی ہجرت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ جنگ، ظلم و ستم اور انسانی بحرانوں سے متاثر افراد کو تحفظ فراہم کرنے کی روایت برقرار رکھے گا، لیکن امیگریشن نظام کو منصفانہ اور مؤثر بنانا ضروری ہے۔

نئے اعلان کے ساتھ ہی حکومت نے امیگریشن قوانین مزید سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت انسانی حقوق اور جدید غلامی سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ جعلی یا بے بنیاد درخواستوں کی روک تھام کی جا سکے۔

امیگریشن ماہرین کے مطابق یہ اسکیم عام ویزا درخواست گزاروں کے لیے نہیں بلکہ صرف بین الاقوامی قوانین کے تحت تسلیم شدہ پناہ گزینوں کے لیے ہے۔
 
 
 

ٹیگز: