Get Alerts

"امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت سفاکانہ ہے": ایرانی وزیر خارجہ کا انسانی حقوق کونسل میں مناب سکول حملے پر شدید احتجاج

جنیوا: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مناب شہر کے ایک اسکول پر ہونے والے ہولناک حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ معصوم طالبات کے قتلِ عام کا فوری نوٹس لے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ ایران کو دو ایٹمی طاقتوں، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک "غیر قانونی اور مسلط کردہ جنگ" کا سامنا ہے۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل تھے۔ عباس عراقچی کے مطابق، اس جارحیت کا آغاز 28 فروری کو اس وقت کیا گیا جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی عمل جاری تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایک بار پھر سفارت کاری کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس فوجی کارروائی کو مکمل طور پر بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ وزیر خارجہ نے مناب شہر کے شجرہ طیبہ گرلز ایلیمنٹری اسکول پر ہونے والے حملے کو سفاکیت کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا اس بزدلانہ حملے میں 175 سے زائد معصوم طالبات اور اساتذہ کو بے دردی سے شہید کیا گیا، جو کہ ایک سنگین جنگی جرم ہے۔
عباس عراقچی نے انسانی حقوق کونسل اور عالمی طاقتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ     مناب اسکول پر حملے کے واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں۔     انسانی حقوق کی اس سنگین پامالی پر ذمہ داروں کے خلاف سخت بین الاقوامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ٹیگز: