Get Alerts

متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کے ویزے روک دیے، وزارتِ داخلہ کا بڑا انکشاف

متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کے ویزے روک دیے، وزارتِ داخلہ کا بڑا انکشاف

اسلام آباد: وزارتِ داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کرنا بند کر دیے ہیں، اور اس وقت صرف ڈپلومیٹک اور بلیو پاسپورٹ ہولڈرز کو ہی ویزے دیے جا رہے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں وزارتِ داخلہ کے حکام نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی لگنے کا خطرہ تھا اور اگر یہ پابندی عائد ہو جاتی تو اسے ہٹانا انتہائی مشکل ہو جاتا۔

وزارتِ داخلہ نے اجلاس میں مزید بتایا کہ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں 61 ہزار پاکستانی قید ہیں، جن میں سے زیادہ تر معمولی نوعیت کے جرائم جیسے اوور اسٹے، شناختی فراڈ اور بینک فراڈ میں ملوث ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، مشنوں کے پاس 90 فیصد قیدیوں کا ڈیٹا موجود ہے، اور عید کے موقع پر اکثر ممالک عمومی نوعیت کے قیدیوں کو رہا کر دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ، وزارتِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ پانچ لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستانی پاسپورٹس پر بیرونِ ملک مقیم رہے اور بعض نے خود کو پاکستانی ظاہر کر کے جرائم میں حصہ لیا۔ نادرا نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے شہریوں کا ڈیٹا ڈیجیٹل کر لیا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں وزارتِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے انسانی اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورکس سرگرم ہیں جو نوجوانوں کو غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں۔ ان نیٹ ورکس سے وابستہ افراد نوجوانوں سے 43 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک وصول کر کے انہیں خطرناک راستوں پر دھکیل دیتے ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے اس حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

سینیٹر شیری رحمان نے اجلاس میں بتایا کہ پاکستان میں جینڈر بیسڈ وائلنس کے 70 فیصد کیسز رپورٹ نہیں ہوتے، اور جن کیسز کی رپورٹنگ ہوتی ہے ان میں سزا کی شرح صرف 5 فیصد ہے۔ ریپ اور گھریلو تشدد کے کیسز میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے، جو کہ بالترتیب 5 فیصد اور 0.1 فیصد ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت انسانی اسمگلنگ کے خلاف فوری آگاہی مہم شروع کرے اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی قونصلر سہولتوں میں بہتری لائے۔ مزید برآں، شناختی فراڈ کی روک تھام کے لیے جامع اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
 
 

ٹیگز: