ورلڈ کپ: پاکستانی ٹیم کو مسلسل چوتھے میچ میں شکست، سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر

ورلڈ کپ: پاکستانی ٹیم کو مسلسل چوتھے میچ میں شکست، سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر

چنئی : بھارت میں جاری آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلسل چوتھے میچ میں جنوبی افریقا سے شکست کے بعد پاکستانی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہے۔ یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں مسلسل چار میچوں میں شکست کھائی ہو۔

  

دونوں ٹیموں کے درمیان ورلڈ کپ کا 26 واں میچ بھارتی شہر چنئی کے ایم اے چدم برم کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے جہاں پاکستانی کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گرین شرٹس 46.4 اوورز میں 270 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔ جنوبی افریقا نے مطلوبہ ہدف 9 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ 

   

پاکستان کی اننگز کا آغاز گزشتہ دو میچوں کی نسبت زیادہ اچھا نہ رہا اور 20 کے مجموعی اسکور پر عبداللہ شفیق صرف 9 رنز بنانے کے بعد چلتے بنے۔

  

ابھی قومی ٹیم اس نقصان سے سنبھلنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ 38 کے اسکور پر مارکو جینسن نے دوسرا شکار کرتے ہوئے امام الحق کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔

  

جینسن کو اگلی ہی گیند پر تیسری وکٹ لینے کا بھی موقع ملا لیکن وہ اپنی ہی گیند پر محمد رضوان کا مشکل کیچ تھام نہ سکے اور اس طرح وکٹ کیپر بلے باز کو پہلی ہی گیند پر نئی زندگی ملی۔

  

رضوان اور بابر نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور تیسری وکٹ کے لیے 48 رنز کی ساجھے داری بنائی، اس طول پکڑتی شراکت کو توڑنے کے لیے جنوبی افریقی کپتان نوجوان جیرالڈ کوئٹزے کو لے کر آئے اور انہوں نے کپتان کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے پہلے ہی اوور میں رضوان کو چلتا کردیا، رضوان نے آؤٹ ہونے سے قبل 31 رنز بنائے۔

اس کے بعد بابر کا ساتھ دینے افتخار احمد آئے اور ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 21 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 43 رنز جوڑے لیکن تبریز شمسی کو چھکا لگانے کی کوشش میں افتخار باؤنڈری پر کیچ دے بیٹھے۔

بابر اعظم نے دوسرا اینڈ سنبھالتے ہوئے اپنی نصف سنچری اسکور کی لیکن شمسی کی گیند کو سوئپ کرنے کی ناکام کوشش میں وہ ڈی کوک کو کیچ دی بیٹھے، انہوں نے 65 گیندوں پر 50 رنز بنائے۔

141 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد قومی ٹیم مشکلات سے دوچار نظر آتی تھی لیکن اس مرحلے پر سعود اور شاداب نے میدان سنبھالا اور اسکور آگے بڑھانے کی ذمے داری اٹھائی۔

دونوں کھلاڑیوں نے ناصرف 84 رنز کی شراکت قائم کی بلکہ ساتھ ساتھ رن ریٹ بھی چھ کے قریب برقرار رکھا جس سے ٹیم کے مناسب اسکور تک رسائی کی توقعات برقرار رکھیں۔اس اہم شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب شاداب خان 43 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

دوسرے اینڈ سے سعود شکیل نے اپنی نصف سنچری مکمل کی لیکن تبریز شمسی نے وکٹ ڈی کوک کی مدد سے انہیں بھی چلتا کردیا۔شاہین شاہ کا بھی وکٹ پر قیام مختصر رہا اور وہ صرف دو رنز بنا کر تبریز شمسی کی چوتھی وکٹ بن گئے۔

محمد نواز نے 2 چھکوں کی مدد سے 24 رنز کی اننگز کھیلی لیکن حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں جینسن کو وکٹ دے بیٹھے حالانکہ ابھی بھی 4 اوورز کا کھیل باقی تھا۔

محمد وسیم جونیئر نے بھی وکٹ پر قیام کو اہمیت نہ دی اور صرف 7 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔ پاکستان کی پوری ٹیم ورلڈ کپ میں پانچویں مرتبہ پورے اوورز کھیلنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 47ویں اوور میں 270رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے تبریز شمسی چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ مارکو جینسن نے تین اور کوئٹزے نے دو وکٹیں حاصل کیں۔