کراچی :سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پروگرام 'لیٹ گرلز لرن' (Let Girls Learn) کی تفصیلات فراہم کرے، جس کے تحت سابق امریکی خاتون اول مشعل اوباما نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے 7 کروڑ ڈالرز فراہم کیے تھے۔
جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے مذکورہ درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار نے ججز کو آگاہ کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور مشعل اوباما نے پاک امریکا تعلقات میں بہتری اور پاکستان میں خواتین کی تعلیم کے مواقعوں میں اضافے کی غرض سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے پروگرام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار نے مذکورہ پروگرام کے لیے دی گئی 7 کروڑ ڈالر کی رقم میں غبن کا الزام عائد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ رقم کہاں گئی۔انہوں نے اپنی درخواست میں قومی احتساب بیورونیب کے چیئرمین، وزیراعظم ہاس، وفاقی وزارت تجارت اور مریم نواز کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے کر اس میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔
یاد رہے کہ سماجی کارکن بسمہ نورین نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں لڑکیوں کی تعلیم کی غرض سے فراہم کی گئی امداد میں مبینہ طور پر بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا تھا۔