اسلام آباد:صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ملک کے اندر اتفاق و اتحاد ، سمندر پارک پاکستانیوں کو متحرک کرنے ، معاشی و سیاسی استحکام اور بھارت کی سول سو سائٹی تک رسائی اور حمایت حاصل کرنا ضروری ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اِس وقت عالمی حالات انتہائی پیچیدہ اور گھمبیر ہو چکے ہیں۔ امریکا اور یورپ میں تنگ نظر قوم پرستی فروغ پا رہی ہے ۔ کئی ممالک مالیاتی بحران سے گزر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ خلفشار کا شکار ہے ۔ برازیل ، ارجنٹینا ، میکسیکو اور بھارت نئی معاشی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں۔
سردار مسعود نے مزید کہا کہ چین معاشی ترقی اور سیاسی اثر و سوخ کے باعث سپر پاور بن چکا ہے ۔ روس بھی اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور اثر و سوخ بحال کر رہا ہے ۔ مجموعی طور پر اس وقت دنیا میں اُصولوں اور نظریات کی سیاست دفن ہو چکی ہے ۔ تنازعات کو بھی ہر ملک اپنے معاشی اور تجارتی مفادات ، سیاسی و دفاعی تعلقات ، علاقائی اتحادوں اور گروپوں کے مفادات کے تناظر میں دیکھتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات امریکا اور یورپی ممالک کے بھارت کے ساتھ دفاعی اتحاد مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے اندر بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں لیکن ہمیں اپنے اُصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے ایک حکمت عملی کے تحت جدوجہد کو آگے بڑھانا ہو گا ۔