Get Alerts

بھارت کو اب تسلیم کرنا پڑے گا کہ کتنے طیارے گرے تھے ؟ اگر نہیں چاہتے تو " کیری آن “ 

بھارت کو اب تسلیم کرنا پڑے گا کہ کتنے طیارے گرے تھے ؟ اگر نہیں چاہتے تو

تحریر: وجیہہ تمثیل مرزا 

پاکستان ایئر فورس کی جانب سے مار گراۓ گۓ انڈین ایئر فورس کے طیاروں اور متعلقہ پائلٹوں کی معلومات, جس کو انڈیا والے کبھی قبول کرنا چاہ ہی نہیں رہے لیکن سچ کو جتنی جلدی تسلیم کیا جاۓ انڈیا والوں اتنا ہی اچھا رہتا ہے لیکن انڈین میڈیا تسلیم ہی نہیں کر رہا کہ پاکستان نے ان کے چھ طیارے مار گراۓ اور پائلٹس کو ہسپتالوں کے بستر پر پہنچا دیا، دیکھتے ہیں وہ بھارتی چھ طیارے کونسے تھے اور کون کون سے پاٸلٹس اپنے انجام کو پہنچے ہیں۔
 نمبر 1 پر مامپور کے مقام پر میراج 2000 جس کو  ونگ کمانڈر اومان کتم ہوائوں میں اڑا رہے تھے جس کا سروس نمبر 30384 تھا اور شاٹ کریڈٹ J-10C بذریعہ PL-15 تھا وہ پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں مار کھا کر تشویشناک حالت میں 92 بیس ہسپتال سری نگر میں مقیم رہے۔ پھر نمبر دو پر رام بن کے مقام پر مگ 29 سکواڈرن لیڈرکیشو یادو جس کا سروس نمبر 32394 اور شاٹ کریڈٹ JF-17 بذریعہ PL-15 اسکو 22 مئی 2025 کو کمانڈ ہسپتال ادھم پور میں رکھا گیا تھا۔
نمبر 3 پر اکھنور کے مقام پر سخوئی MKI Su-30 پائلٹ کا نام ونگ کمانڈر للت گرگ جس کا سروس نمبر 29690 تھا اور اسی مقام پر دوسرا پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ منڈت تیواری دونوں مستحکم حالت میں اکھنور کے 170 ملٹری ہسپتال میں رکھے گۓ 
نمبر چار پر بھٹنڈا کے مقام پر رافیل ای ایچ ونگ کمانڈر ارون پنوار سروس نمبر 30217 شاٹ کریڈٹ J10C بذریعہ PL15 جس کو 174ملٹری ہسپتال بھٹنڈا میں رکھا گیا تھا اور تشویشناک حالت کی وجہ سے چندیمندر کمانڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ پھر پانچواں نمبر آتا ہے جی پنجاب کا مقام جسے بھٹنڈا کا شمالی کہا جاتا ہے وہاں رافیل ای ایچ جسے چلا رہے تھے ونگ کمانڈر منیش سروس 27976 اور شاٹ کریڈٹ اور بذریعہ انکا بھی وہی جیسا کہ باقی سب کا تھا مستحکم حالت میں چندیمندر کمانڈ ہسپتال میں قیام پذیر تھے۔
جو آخری اور چھٹے پائلٹ سکواڈرن لیڈر سنیل جو رافیل ای ایچ میں سوار تھے جن کا سروس نمبر 32091 تھا اور شاٹ کریڈٹ اور بذریعہ وہی تھا وہ بھی مستحکم حالت میں 92 بیس ہسپتال سری نگر میں مقیم رہے۔ یہ تو تھی مئی 2025 والی زلت جو بھارت کو ملی تھی لیکن یہ جو وقفے وقفے سے شروع ہونے والی بھارت کی بوکہلاہٹ ہے جو انڈیا پاکستان کے میچ کے دوران شروع ہو جاتی اور کبھی کبھی ایل او سی پر بھی جیسے پانچ اگست کی آدھی رات کو شروع ہوئی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اپنی حرکتوں پر پشیمان ہے اور شکست کھانے کے باوجود وہ شکست تسلیم نہیں کر پا رہا ہے۔ " بٹ کیری آن "

نوٹ: یہ کالم نگار/بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس بارے میں ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

وجیہہ تمثیل مرزا پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

ٹیگز: