اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کو سخت لہجے میں آئینہ دکھاتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی پر اب خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔خواجہ آصف نے کابل میں ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کی مدد کے لیے رقم دینے کو بھی تیار تھا، مگر وہاں سے کوئی ضمانت دینے والا موجود نہ تھا۔وزیر دفاع نے براہِ راست سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیاحقانی صاحب! آپ بتائیں کہ ہم پر آپ کی سہولت کاری کا جو امریکی الزام لگتا تھا، وہ سچ تھا یا جھوٹ؟۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان اور افغان طالبان ایک ہی ہدف پر ساتھ کھڑے تھے، اور وہ ہدف ہمیں امریکہ نے دیا تھا۔خواجہ آصف نے افغان قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں تک آپ کی اور آپ کے خاندانوں کی میزبانی کی، آج بھی لاکھوں افغان شہری پاکستان میں پناہ گزین ہیں، لیکن بدلے میں پاکستان کو صرف زخم ملے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا افغان طالبان پاکستان کے دشمنوں کے حلیف بننے سے گریز کریں۔
پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف سخت ترین موقف اپنائے گا۔