ملکی معیشت کا نظام براہ راست سیاسی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ ملکی سیاست جس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اتنی ہی تیزی کے ساتھ معیشت کا بیڑا غرق ہو رہا ہے۔ یہ مسئلہ اب کسی سیاسی جیت کی ہار یا جیت سے آگے بڑھ گیا ہے۔ پرویز الہی ہو یا حمزہ شہباز، یہ سب تو مہرے ہیں۔ ملک بچے گا تو یہاں سیاست بھی ہو گی اور ایک دوسرے پر سیاسی وار بھی ہوں گے۔ بہتان طرازی کے کاروبار میں ملک کی بقا کو براہ راست خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ پہلی بار ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے۔ باہر والے تو تماشا دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان جیسا ملک جس کی معیشت کا سارا دارومدار پاکستان پر ہے اس کے ایک وزیر کا بیان آیا تھا کہ ہمیں پاکستان کے حالات پر فکرمندی ہے کہ اس کے بد اثرات ہم پر بھی پڑیں گے۔ ایک ملک عدم استحکام سے دوچار ہوتا ہے تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔ یوکرائن کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ کس طرح اس نے پوری دنیا کی معیشتوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ ہمارے آس پاس کے پڑوسی ممالک بھی ہماری خراب ہوتی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بہتری کی کوئی صورت اس لیے بھی نظر نہیں آ رہی کہ جن اداروں نے اس نظام کو چلانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی وہ خود تقسیم ہو گئے ہیں۔ ایک عرصہ سے عدالت میں ہونے والی تقسیم واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس کو خط نے اس خلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سیاسی معاملات جس تیزی کے ساتھ عدالتوں کے پاس جا رہے ہیں اس سے عدلیہ کی اپنی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر جاری ہونے والی درجہ بندی میں پاکستان کی عدلیہ کی کارکردگی کو بہت برا دکھایا گیا ہے۔ شاید جو لوگ درجہ بندی کر رہے ہیں انہیں اس بات کا علم نہیں کہ تیز ترین انصاف دنیا کے کسی اور کونے میں موجود نہیں جہاں پر عدالتیں رات کو کھل جاتی ہیں اور سائل کو وہ بھی عطا کر دیتی ہے جس کی درخواست بھی نہیں کی گئی ہوتی۔ عدلیہ کا چیف جج کہتا ہے کہ وہ فیصلے اپنے ضمیر کے مطابق دے رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کا مطمع نظر کچھ اور ہے لیکن مؤدبانہ گزارش یہ ہے کہ فیصلے ضمیر کی بجائے آئین اور قانون کے مطابق کریں۔ ضمیر کو تو مختلف توجیہات پیش کر کے مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ ہماری عدالتی تاریخ اتنی تابناک نہیں کہ مستقبل کے لوگ اس کی مثالیں دے سکیں۔ اس ملک میں عدالتی قتل کا اعتراف خود ایک سابق چیف جسٹس نے اپنے ٹی وی پروگرام میں کیا۔ آئین کی تشریح کی ذمہ داری چونکہ عدلیہ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے اس لیے وہ من چاہی تشریحات کے ذریعے ایک بار پھر سے آئین کو لکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہ کام کرتے ہوئے کسی پارلیمانی روایت یا نظیر کا حوالہ تک نہیں دیا جاتا کہ دنیا
کی کس پارلیمانی جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے۔ صدارتی ریفرنس کے جواب میں جو تشریح کی گئی ہے اس کا جواز کہاں موجود ہے عدلیہ یہ بتانے سے قاصر ہے۔ ایسے فیصلوں کی وجہ سے معاشرے میں تقسیم بڑھ رہی ہے۔ جب ملک میں یہ خیال راسخ ہو گیا ہو کہ عدلیہ کے پاس مقدمہ جائے گا تو اس کو کون کون جج سنے گا اور اس کا فیصلہ یہ ہو گا تو اس سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف جو درخواست دی تھی اس میں متحدہ حکومتی اتحاد نے محض یہی التجا کی تھی کہ چونکہ معاملہ آئین کی تشریح کیا ہے تو بہتر ہے کہ فل کورٹ بنا لیا جائے تاکہ جو ابہام موجود ہیں وہ نہ رہیں۔ معزز عدلیہ اگر اسے قبول کر لیتی یا کم از کم لارجر بنچ ہی تشکیل دے دیا جاتا تو حالات میں بہتری لائی جا سکتی تھی فیصلہ بے شک یہی آتا۔ آج ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہی مسلم لیگ ن اسے 'عدالتی کو' قرار دے رہی ہے یعنی عدالتی مارشل لا۔ مسلم لیگ کی رہنما نے اس ٹرم کو اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر استعمال کیا ہے۔ بہت دور کی بات کو چھوڑیے افتخار چودھری اور ثاقب نثار کے دور میں جو فیصلے دیے گئے تھے ان کو آج بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے بلیک میل ہو کر یا اپنی انا کی تسکین کے لیے عدالتی نظام کو استعمال کیا اور جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا۔ کوئی ایسا نظام ضرور موجود ہونا چاہیے کہ جہاں اس کی روک تھام ہو سکے۔ برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈز کی طرز پر ایک کمیٹی بنے جو بغیر کسی وابستگی کے اس نظام کا جائزہ لے کہ کیا ہماری عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دے رہی ہیں۔ 22 کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ تین جج مل کر کر دیتے ہیں۔
ذاتی طور پر دیکھا جائے تو حمزہ شہبازشریف سے پرویز الٰہی زیادہ موزوں اور بہتر امیدوار ہیں اور ان کے پاس کئی دہائیوں کا تجربہ ہے ، دیکھنا یہ ہے وہ کتنے دن تک پنجاب کو چلا سکتے ہیں اور جب ان کے پیروں تلے سے قالین کھینچ لیا جاتا ہے۔ مرکز اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی کا نتیجہ کسی بھی طور صوبے کے حق میں نہیں نکل سکتا۔ مسلم لیگ ق کے اراکین کی حیثیت کا تعین ہونا باقی ہے۔ پی ڈی ایم اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرے گی اور اگر اسے سنا گیا تو بھی بہت کچھ سامنے آ سکتا ہے۔ لوگ اس فیصلے سے صرف اس لیے تقسیم ہوئے ہیں اور اس پر تنقید کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ اگر آج کے فیصلے کو تسلیم کر لیں تو چند روز پہلے حمزہ شہباز کا جو انتخاب ہوا تھا اور جس کے تحت پارٹ ہدایات کی خلاف ورزی پر تحریک انصاف کے اراکین نے ووٹ ڈالا انہیں نہ صرف ڈی سیٹ کیا گیا بلکہ ان کے ووٹ بھی نہیں گنے گئے۔ ڈپٹی سپیکر نے اس بار ایسا کیا تو ووٹ گنتی میں شمار ہو گئے۔ سینٹ میں چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں اگر پریذائیڈنگ افسر ووٹ رد کر دے تو پتہ نہ ہلے اور اس کے مقدمہ عدالتوں میں آج تک زیر التوا ہو تو شکوک و شبہات کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ آئین کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ کی وجہ سے کوئی اس کو ماننے کے لیے تیار ہے۔ کالاباغ ڈیم بنانے کے لیے ماضی میں ایک تجویز یہ دی گئی کہ سندھ اور دوسرے صوبے کے پانی کے شیئر کو محفوظ بنانے کے لیے آئینی گارنٹی دی جا سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ کون سی آئینی گارنٹی، وہ آئین جسے آپ ہر چند سال بعد لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں۔
کیا ملک میں ایک بار پھر سے وفاق اور صوبے میں شروع ہونے والی سیاسی کشمکش شروع ہونے جا رہی ہے اور یہ دور بھی نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور کی یاد تازہ کرے گا یا ہم نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا ہے۔ عرض یہ ہے کہ ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ اگر سیکھا ہوتا تو کل گورنر پرویز الٰہی کا حلف لینے سے انکار نہ کرتا اور راتوں رات پرویز الٰہی کو اسلام آباد جا کر صدر سے حلف نہ لینا پڑتا۔ دوسری طرف مرکز سے یہ اطلاعات آنا شروع ہو گئی ہیں کہ وہاں گورنر راج لگانے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ آپ خود بتائیے کہ کیا اس طرح کی سیاسی صورتحال میں روپیہ اور معیشت مضبوط ہو گی؟