واشنگٹن : امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کر دے تو جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ غزہ میں جلد جنگ بندی معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو جائے گا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ محاصرہ اور امداد کی بندش کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب فلسطینیوں کو امداد فراہم کی جائے۔
دوسری جانب حماس کے رہنما خلیل الحیا نے ویڈیو پیغام میں غزہ کی سنگین صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پورا علاقہ فاقہ کشی کا شکار ہے، اور محاصرہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے شہریوں کو فوری امداد کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے، جو ہر حال میں دیا جانا چاہیے۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لَمی نے بھی فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری غزہ میں جنگ روکنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض عارضی جنگ بندی کافی نہیں، مکمل اور فوری جنگ بندی کے بغیر غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔
عالمی رہنماؤں کی یہ بیانات اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ غزہ کی صورتحال اب صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی بحران بن چکی ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔