غزہ :غزہ میں شدید غذائی قلت اور بھوک کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک سے 6 مزید فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں سب سے افسوسناک واقعہ 5 ماہ کی بچی زینب ابو حلیب کی موت ہے، جو مناسب خوراک نہ ملنے پر دم توڑ گئی۔
ایسے کڑے حالات میں اردن اور متحدہ عرب امارات نے ایک مشترکہ انسانی اقدام کرتے ہوئے ہوائی ذرائع سے 25 ٹن امدادی سامان غزہ کے ان علاقوں میں گرایا جہاں زمینی رسائی ممکن نہیں رہی۔ اس امداد میں غذائی اشیاء اور طبی سامان شامل تھا، جسے اسرائیلی محاصرے سے شدید متاثرہ علاقوں میں فضائی طور پر گرایا گیا۔
دوسری جانب، عالمی دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کے مخصوص علاقوں میں روزانہ صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک فوجی کارروائیاں معطل رہیں گی، جبکہ صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک امدادی قافلوں کے لیے محفوظ راہداری فراہم کی جائے گی۔ اس فیصلے پر پیر کے دن سے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔
برطانیہ، فرانس، کینیڈا سمیت 25 ممالک نے اسرائیل پر امدادی رسائی میں رکاوٹ ڈالنے پر شدید احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی امداد کو عسکری یا سیاسی ترجیحات سے بالاتر رکھا جائے۔مصری ریڈ کریسنٹ کی جانب سے 100 امدادی ٹرک جنوبی غزہ روانہ کیے گئے، جن میں 1,200 میٹرک ٹن خوراک شامل تھی۔ تاہم خان یونس کے علاقے میں کچھ ٹرک لوٹ لیے گئے، جس نے نہ صرف امن و امان کے بحران کو بے نقاب کیا بلکہ امدادی ترسیل کے خطرات کو بھی واضح کر دیا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "فوجی مہم مکمل فتح تک جاری رہے گی" جبکہ حماس نے اسرائیل کی جنگ بندی کو "دھوکہ اور فریب" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
غزہ میں اس وقت لاکھوں افراد خوراک، پانی اور طبی امداد کے لیے ترس رہے ہیں۔ امدادی قطاروں میں کھڑے شہریوں پر اسرائیلی فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، حالیہ واقعے میں کم از کم 17 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔