اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پیر کے روز پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے تین اہم عوامی نمائندوں کو سرکاری عہدوں سے نااہل قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ ان کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات میں سزا ہونے کے بعد سامنے آیا، جو 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے جڑے تھے۔
نااہل قرار دیے جانے والوں میں سینیٹر اعجاز چوہدری، رکنِ قومی اسمبلی محمد احمد چٹھہ، اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر شامل ہیں۔ ان تینوں کو انسداد دہشتگردی کی عدالتوں نے 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، اعجاز چوہدری کی نااہلی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے اس فیصلے کے بعد عمل میں آئی جس میں انہیں پرتشدد ہنگاموں میں ملوث پایا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 63 (1) (h) کے تحت مجرم قرار دیے گئے افراد عوامی عہدے کے اہل نہیں رہتے۔
اسی طرح، ایم این اے احمد چٹھہ (حلقہ NA-66 وزیرآباد) اور ایم پی اے احمد بھچر (PP-87 میانوالی) کو بھی ان کی نشستوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان دونوں کو الگ الگ انسداد دہشتگردی عدالتوں نے 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں میں کردار ادا کرنے پر مجرم ٹھہرایا تھا۔
لاہور کی ایک انسداد دہشتگردی عدالت نے اسی سلسلے کے ایک علیحدہ مقدمے میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور حمزہ عظیم سمیت کچھ رہنماؤں کو ناکافی ثبوتوں کی بنا پر بری کر دیا، جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 10 افراد کو 10 سال قید کی سزا دی گئی۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا، جو جلد ہی پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے جی ایچ کیو راولپنڈی اور جناح ہاؤس لاہور سمیت اہم سرکاری و عسکری عمارتوں پر حملے کیے۔
ان واقعات کو فوج نے "یوم سیاہ" قرار دیا تھا اور ملزمان کو فوجی قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کروانے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں کئی پی ٹی آئی کارکنوں کو سول اور ملٹری عدالتوں میں پیش کیا گیا۔
عدالتی فیصلوں اور سخت کارروائیوں نے پی ٹی آئی کے لیے سیاسی میدان میں مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں، جبکہ پارٹی قیادت ان فیصلوں کو جانبدارانہ قرار دے رہی ہے۔