اسلام آباد : عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں محصولات بڑھانے کے لیے سخت ٹیکس اصلاحات کی تجویز دی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے اور ٹیکس حکام کو مزید اختیارات دیے جائیں۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سفارشات میں پی او ایس (Point of Sale) نظام کے تحت ٹیکس چوری پر جرمانہ پانچ لاکھ سے بڑھا کر پچاس لاکھ روپے کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ ٹیکس چوروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات زیر غور ہیں، تاہم سول و ملٹری سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے سولر پینلز سمیت متعدد اشیاء پر حاصل ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ کھاد، زرعی اسپرے اور زرعی مشینری پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، بجٹ میں زرعی ان پٹس اور مشینری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، جب کہ پرتعیش اشیاء کی فہرست میں مزید آئٹمز شامل کر کے ان پر سیلز ٹیکس 25 فیصد سے بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز نافذ ہوئیں تو اس سے جہاں حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، وہیں عوام پر مہنگائی کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔