ممبئی: بالی ووڈ کی معروف ماڈل و اداکارہ ملائکہ اروڑہ ایک بار پھر میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، مگر اس بار وجہ کوئی فیشن شو یا گلیمرس فوٹو شوٹ نہیں، بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو حالیہ دنوں میں مسلسل ان کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
ملائکہ پہلی بار اس وقت سوشل میڈیا پر چھا گئیں جب 29 اکتوبر 2025 کو ممبئی میں ایک کنسرٹ کے دوران انہیں ایک نامعلوم شخص کے ساتھ بار بار بات کرتے اور تقریب کے اختتام پر اس کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ منظر چند گھنٹوں میں وائرل ہو گیا، جس کے بعد مداحوں نے اس شخص کی شناخت جاننے کی کوششیں شروع کر دیں۔
بعد میں بھارتی میڈیا اور انسٹاگرام پوسٹس کے مطابق، اس شخص کی شناخت ہرش مہتا کے طور پر ہوئی، جو 33 سال کی عمر میں ہیروں کے تاجر ہیں۔ اگرچہ ہرش مہتا زیادہ تر عوامی زندگی سے دور رہتے ہیں، تاہم مداحوں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ وہ ملائکہ کے بزنس مینیجر بھی ہو سکتے ہیں۔ تعلقات کی افواہیں اُس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب 26 نومبر 2025 کو ملائکہ اور ہرش کو ممبئی ایئرپورٹ پر ایک ساتھ دیکھا گیا۔
اگرچہ دونوں الگ الگ چل رہے تھے، لیکن پاپرازی کیمروں نے ہرش کو ملائکہ کے فوراً بعد ایئرپورٹ سے باہر آتے ہوئے قید کر لیا۔ ہرش نے ایک بار پھر ماسک پہن کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی، مگر کچھ ہی دیر بعد دونوں ایک ہی گاڑی میں روانہ ہوتے ہوئے نظر آئے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مزید قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔
یہ تمام صورت حال اُس وقت سامنے آئی ہے جب ملائکہ اروڑہ اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کم ہی بات کرتی ہیں، خاص طور پر ارجن کپور سے علیحدگی کے بعد۔ یاد رہے کہ ارجن اور ملائکہ 2018 سے ایک دوسرے کے قریب تھے، اور ارجن نے 2024 میں دیوالی کے موقع پر اپنی سنگل حیثیت کی تصدیق کی تھی۔
پیشہ ورانہ میدان میں ملائکہ بدستور سرگرم ہیں اور اس وقت وہ 'انڈیا کا گٹ ٹیلنٹ' کے نئے سیزن میں نوجوت سنگھ سدھو اور گلوکار شان کے ساتھ جج کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ 'پچ ٹو گیٹ رِچ' نامی شو میں بھی جج ہیں، جسے 20 اکتوبر 2025 کو جیوہٹ اسٹار پر نشر کیا گیا تھا، اور جس میں کرن جوہر، اکشے کمار اور منیش ملہوترا جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر مداحوں کی رائے دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ ہرش مہتا کے کیمروں سے بچنے کی کوشش کو دلچسپ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ ملائکہ کے ممکنہ نئے تعلق کو خوش آئند سمجھ رہے ہیں۔ تاہم، دونوں کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہ آنے کے سبب یہ معاملہ مزید پراسرار ہو چکا ہے۔