Get Alerts

بھارت میں نپاہ وائرس کے حقائق چھپانے کا انکشاف، ورلڈ کپ کی سری لنکا منتقلی کا مطالبہ

بھارت میں نپاہ وائرس کے حقائق چھپانے کا انکشاف، ورلڈ کپ کی سری لنکا منتقلی کا مطالبہ

کولکتہ/ نئی دہلی بھارت میں نپاہ وائرس کے کیسز چھپانے کے الزامات اور صفائی کے ناقص انتظامات نے 2026 میں شیڈول آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے انعقاد پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ آزاد ذرائع اور طبی ماہرین کی جانب سے کھلاڑیوں اور شائقین کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر ٹورنامنٹ کو مکمل طور پر سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بھارتی حکام مغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے صرف دو کیسز تسلیم کر رہے ہیں، جبکہ آزاد رپورٹس کولکتہ کے اسپتالوں میں طبی عملے سمیت کم از کم پانچ افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کر رہی ہیں۔ 40 سے 75 فیصد تک شرحِ اموات رکھنے والا یہ وائرس عالمی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کی میزبانی بچانے کے لیے حقائق کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
کولکتہ کا تاریخی ایڈن گارڈنز سٹیڈیم ورلڈ کپ کے اہم وینیوز میں شامل ہے، جو کہ وائرس کے حالیہ کلسٹرز کے قریب واقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں تماشائیوں کی موجودگی میں وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے، جس کی ذمہ داری میزبان ملک اور آئی سی سی پر عائد ہوگی۔
حالیہ "انڈیا اوپن سپر 750 بیڈمنٹن ٹورنامنٹ" کے دوران غیر ملکی کھلاڑیوں کی جانب سے کی جانے والی شکایات نے بھارت کے انتظامی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ آئی سی سی تجارتی مفادات کے بجائے انسانی جانوں کو اہمیت دے۔ سری لنکا، جو پہلے ہی ایونٹ کا شریک میزبان ہے، وہاں بہتر صحت نگرانی اور محفوظ ماحول کی فراہمی ممکن ہے۔ عالمی کرکٹ برادری کا کہنا ہے کہ اگر بھارت میں ایونٹ جاری رکھا گیا تو یہ عوامی صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

ٹیگز: