اسلام آباد :چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی بہن علیمہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کے کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں صرف 30 سیکنڈ کیلئے کی گئی، جس کے بعد بغیر کسی کارروائی کے محض اگلی تاریخ دے دی گئی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی بیرونِ ملک موجودگی کے باوجود 24 گھنٹوں کے اندر سماعت مقرر کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وکیل کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔
اانہوں نے کہا کہ جیل حکام نہ صرف وکلا کو، بلکہ فیملی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے، حالانکہ عدالتی حکم موجود ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں عدالتی احکامات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ایک موقع پر جج نے ہدایت کی کہ وکلا اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے، لیکن جیل انتظامیہ نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔
ان کا موقف تھا کہ عمران خان کو شفاف اور منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جانا چاہیے، لیکن موجودہ صورتحال میں ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق یہ "اوپن ٹرائل" نہیں بلکہ انصاف سے انحراف کی ایک مثال ہے۔