اسلام آباد: پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن اور کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور احتجاج کرنے والے گروپوں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے فوری طور پر بامقصد مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
اپنے ایک بیان میں مشعال ملک نے کہا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری صورتحال کے باعث آزاد کشمیر میں معمولاتِ زندگی، کاروباری سرگرمیاں، سیاحت اور ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے حکومت اور احتجاجی قیادت پر زور دیا کہ وہ لچک اور بردباری کا مظاہرہ کریں، کیونکہ باہمی بداعتمادی کی فضا نے نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا کی ہے بلکہ آزاد کشمیر کے تشخص کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
مشعال ملک کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا واحد حل بات چیت، باہمی مشاورت اور اتفاق رائے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد سازی کے اقدامات کیے بغیر خطے میں امن، استحکام اور معمولاتِ زندگی کی بحالی ممکن نہیں۔
انہوں نے آزاد کشمیر کو تحریکِ آزادی کشمیر کا بیس کیمپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے چاہییں جو مجموعی طور پر کشمیری عوام اور تحریکِ آزادی کے مفاد میں ہوں۔
مشعال ملک نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہے اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے باعث ٹرانسپورٹ، سیاحت اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مشعال ملک نے کہا، "ہم پر مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں شہداء کی قربانیوں کی امانت ہے، اس لیے ہماری اولین ترجیح بھارتی غیر قانونی قبضے سے جموں و کشمیر کی آزادی ہونی چاہیے۔"
انہوں نے حکومت اور احتجاجی گروپوں سے اپیل کی کہ وہ تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور آزاد کشمیر میں پائیدار امن اور دیرپا حل کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔