ہنگو : خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں دہشت گردوں نے خزینہ بانڈہ پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) سمیت کم از کم 7 پولیس اہلکار شہید جبکہ 22 اہلکار زخمی ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) طارق حبیب کے مطابق زخمی ہونے والوں میں ڈی ایس پی مجاہد حسین بھی شامل ہیں، جنہیں حملے کے دوران شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے۔ ڈی پی او کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان، گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان متعدد بار افغان طالبان کی حکومت پر زور دے چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکے۔ اسلام آباد کی جانب سے کابل پر ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد رواں سال فروری میں سرحد پار دہشت گرد حملوں کے جواب میں آپریشن غضبُ الٰحق شروع کیا گیا تھا۔
دریں اثنا، یہ حملہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران بھارت کے حمایت یافتہ 32 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
ادھر سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں تشدد سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں تقریباً 96 فیصد حصہ انہی دونوں صوبوں کا رہا، جن میں خیبرپختونخوا میں 475 جبکہ بلوچستان میں 265 افراد جان سے گئے۔
رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں سب سے زیادہ پرتشدد واقعات بھی خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، جہاں 151 واقعات پیش آئے، جبکہ بلوچستان میں 94 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے تشدد کے بیشتر واقعات پر مشتمل ہیں۔