تہران : ایران نے اپنی وسطی اور مغربی فضائی حدود بین الاقوامی ایئرلائنز کے لیے کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فضائی ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور پروازوں کے دورانیے میں کمی لانے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کرنے والی ایئرلائنز اب ایران کی مختصر فضائی راہداریوں کو استعمال کر سکیں گی، جس سے پروازوں کے اخراجات اور فیول کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کو اس اقدام سے اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے کیونکہ اوور فلائٹ فیس کی مد میں زرمبادلہ حاصل ہو گا۔ ساتھ ہی، بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے لیے یہ ایک سہولت بخش پیش رفت ہے۔
ماضی میں ایران نے سلامتی کے خدشات کے باعث مخصوص فضائی علاقوں کو بند کر دیا تھا، خصوصاً 2020 میں یوکرینی مسافر طیارے کے سانحے کے بعد۔ اب ان علاقوں کا دوبارہ کھولا جانا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایرانی حکام کو اپنی فضائی حدود کی سیکیورٹی پر دوبارہ اعتماد حاصل ہو چکا ہے۔