Get Alerts

ایران جنگ سے واپسی یا مزید شدت؟ امریکی صدر اور نائب صدر کے بیانات میں تضاد سامنے آگیا

ایران جنگ سے واپسی یا مزید شدت؟ امریکی صدر اور نائب صدر کے بیانات میں تضاد سامنے آگیا

واشنگٹن : ایران کے ساتھ جاری جنگ کے مستقبل اور امریکی فوج کے انخلاء کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے دو اہم ترین ستونوں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان واضح فکری اختلاف نمایاں ہو گیا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک حالیہ بیان میں ایران سے امریکی فوج کے جلد نکلنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران میں اپنے زیادہ تر اہم فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
ایران سے نکلنے کے فوری بعد عالمی مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور گیس کی قیمتیں دوبارہ کم ہو جائیں گی، جس سے امریکی عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ جے ڈی وینس کے مطابق امریکہ اب طویل جنگ کے بجائے جلد واپسی کی حکمتِ عملی پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائب صدر کے اس موقف سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ جنگ کو مزید کچھ عرصہ جاری رکھنے کے حق میں ہیں کیونکہ  ان کا اصل ہدف ایرانی حکومت کو عسکری اور معاشی طور پر اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ وہ دوبارہ اٹھنے کے قابل نہ رہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ایک بڑا مقصد ایرانی نظام کو عالمی سطح پر طویل عرصے کے لیے غیر مؤثر بنانا ہے تاکہ خطے میں امریکی مفادات کو کوئی خطرہ لاحق نہ رہے۔
 ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر اور نائب صدر کے بیانات میں یہ تضاد واشنگٹن میں موجود "جنگ نواز" اور "معیشت نواز" لابیوں کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں جے ڈی وینس معاشی استحکام چاہتے ہیں، وہیں ٹرمپ جیو پولیٹیکل برتری کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ٹیگز: