نیویارک : اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیروں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ میں کی گئی اشتعال انگیز کارروائیوں کو بھی ناقابل قبول قرار دیا۔
عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ میں اسرائیل کا غیر قانونی محاصرہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی ضمیر کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "صیہونی فورسز کا محاصرہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے تاکہ فلسطینی عوام کو بنیادی انسانی حقوق، خوراک، پانی اور طبی امداد تک رسائی حاصل ہو سکے۔"
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ حملے صرف جسمانی نقصان تک محدود نہیں، بلکہ ان میں انسانیت کو کچلا جا رہا ہے، جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔"
عاصم افتخار نے غزہ میں انسانی بحران کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لاکھوں فلسطینی بھوک، افلاس اور بے سروسامانی کا شکار ہیں جبکہ غزہ کے اسپتالوں میں ادویات، بجلی اور طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔
انہوں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کو ان کا حق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ "فلسطینیوں کو ان کی سرزمین، ان کا وقار، اور ان کی آزادی دی جائے۔ امداد کی فوری اور غیر مشروط فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔"
پاکستان کے اس مؤقف کو کئی مسلم اور ترقی پذیر ممالک کی تائید حاصل ہے، جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی مسلسل اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔