راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی پر قابو ممکن نہیں، اور بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 1873 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں 136 افغانی شامل تھے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور بلوچستان میں 53309 آپریشنز کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر انتہائی دشوار گزار ہے، خیبر پختونخوا میں سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے اور صرف 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں۔ بارڈر باڑ مؤثر تب ہو سکتی ہے جب وہ آبزرویشن اور فائر کور کے ساتھ ہو، جبکہ سرحد کے دونوں اطراف منقسم گاؤں اور ناکافی انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے کنٹرول ایک چیلنج ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل نے مزید کہا کہ افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان طالبان کی مکمل سہولت کاری حاصل کرتے ہیں اور وہاں دہشت گردوں کو اسلحہ و فنڈنگ بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی پوزیشن دوحہ معاہدے کے تحت بالکل واضح ہے: افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کرے۔