اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مختلف ممالک کے حالیہ دوروں سے متعلق نیوز بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے افغانستان میں امن ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سے 12 دن انتہائی مصروف رہے جن میں انہوں نے ماسکو، بحرین، برسلز اور افغانستان کے دورے کیے اور اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ماسکو میں ایس سی او سربراہان حکومت اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایت پر شرکت کی، جہاں پاکستان کی معاشی ترجیحات، علاقائی روابط، توانائی کے شعبے میں تعاون اور افغانستان کے امن سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات مفید رہی، دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور غزہ پر بات ہوئی جبکہ صدر پیوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایس سی او ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے پر بات چیت ہوئی، ایس سی او بینک کے قیام اور رکن ممالک کے درمیان مقامی کرنسی میں تجارت کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اجلاس کے بعد 11 اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
افغانستان کے دورے سے متعلق اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان قیادت کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کابل حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں، افغان طالبان یا ٹی ٹی پی کو پاکستان کے حوالے کریں یا انہیں کہیں دور منتقل کریں۔
برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ملاقاتیں انتہائی مثبت رہیں جن میں کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، دہشت گردی، افغانستان اور جی ایس پی پلس پر تفصیلی بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں غلط فہمیاں دور کی گئیں اور افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کا معاملہ کھل کر اٹھایا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر غربت میں کمی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔