اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان طالبان رجیم کو شکست دے کر دنیا کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان طالبان کے خلاف اپنی تمام تر طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کا استعمال کسی بھی صورت میں غیر ضروری نہیں ہو گا۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ طالبان کی مسلسل مذاکرات کی درخواستوں کے باوجود استنبول مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے برادر ممالک کی درخواست پر افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی پیشکش قبول کی تھی، مگر طالبان کے زہریلے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اندر انتشار اور دھوکہ دہی موجود ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان طالبان کو ختم کرنے یا انہیں غاروں میں چھپنے پر مجبور کرنے کے لیے اپنی طاقت کا بے جا استعمال نہیں کرے گا، لیکن اگر حالات کا تقاضا ہوا تو وہ انہیں تورا بورا جیسے مقامات پر شکست دے کر عالمی برادری کے لیے ایک نیا منظر پیش کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی حکمرانی اور جنگی معیشت کو بچانے کے لیے افغانستان کو ایک اور تنازع میں دھکیلنا انتہائی افسوسناک ہے۔ خواجہ آصف نے طالبان کے جنگی دعووں کی حقیقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ طالبان افغان عوام میں اپنی بگڑتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستانی وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشت گردانہ یا خودکش حملے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور طالبان کی کسی بھی مہم جوئی کا جواب سخت اور کڑوا ہوگا۔
آخر میں، خواجہ آصف نے طالبان کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان کے عزم اور صلاحیتوں کو آزمانے کی غلطی نہ کریں، کیونکہ اس کا نتیجہ انہیں بہت مہنگا پڑے گا۔