ماہرین صحت کی عوام کو گرمی کے موسم میں بیماریوں سے بچنے کی ہدایات اور تدابیر 

ماہرین صحت کی عوام کو گرمی کے موسم میں بیماریوں سے بچنے کی ہدایات اور تدابیر 

فیصل آباد:ماہرین صحت نے عوام کو گرمی کے موسم میں ہیضے سمیت دیگر موسمی ، وبائی ، متعدی امراض سے بچاﺅ کیلئے حفاظتی ، احتیاطی ، تدارکی اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہیضہ ایک متعدی مرض ہے جو موسم گرما میں وبا کی صورت میں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے سے پھیلتا ہے اور سکول جانے والے بچے اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں جس کی وجہ بازار کی چٹ پٹی چیزیں جیسے چاٹ ، آلو چنے ، گول گپے اور مختلف رنگوں والی آئس کریموں کا استعمال ہوتا ہے اس لئے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی اشیاءکے استعمال سے منع کریں ۔
انہیں ضرورت کے علاوہ قطعاً پیسے مت دیں۔پنجاب میڈیکل کالج کے ماہرین طب نے بتایا کہ اس مرض کا اصل سبب ایک جرثومہ ہے جسے "وبر یو کالری " ےا " وبر یو کو ما" کہتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ےہ ہے کہ اس کی شکل انگریزی میںڈالے جانے والے " کوما" سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے اسباب میں آب و ہوا کی خرابی، تنگ و تاریک جگہ پر رہائش ، گندگی ، میلا کچیلا رہنا، حفظان صحت کے اصولوں سے انحراف اور خوراک کا مناسب طور پر ہضم نہ ہونا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ ہیضہ کی علامات میںپیٹ میں شدید درد ہوتا ہے،قے آتی ہے، دست شروع ہو جاتے ہیں جو چاولوں کی پیچ جیسے ہوتے ہیں۔
علامات شدت اختیار کر لیتی ہیں ےعنی دست اور قے بہت زیادہ آنے لگتے ہیں، ہاتھوں ، پیروں میں تشنج اور کھچاوٹ ہوتی ہے اور مریض کےلئے چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے، جسم سے ضروری پانی کے اخراج کے بعد مریض سستی محسوس کرتا ہے، کمزوری ہو جاتی ہے، ٹھنڈے پسینے آتے ہیں، سارا جسم ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ، مریض کےلئے بات چیت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، طبیعت میں بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے، چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے۔
آنکھوں کے گرد حلقے پڑ جاتے ہیں ، شدید پیاس لگتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے مرض کی علامات میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے، اسہال و دست بند ہو جاتے ہیں، پیشاب بھی با قاعدہ ہو جاتا ہے، جسم حرارت کی طرف لوٹ آتا ہے،نبض بھی بحال ہو جاتی ہے اور مریض کا چہرہ ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً ڈاکٹر سے رجوع اورشدید مرض کی صورت میں ہسپتال سے رجوع کر نا جبکہ پانی کی کمی پوری کرنے کےلئے او آر ایس کا استعمال کرنا چاہیے۔