واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چین کے حوالے سے اہم بیانات جاری کرتے ہوئے عالمی منظر نامے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے فوجی طاقت کے استعمال اور تجارتی روابط کے حوالے سے اتحادی ممالک کو دو ٹوک پیغام دیا ہے۔ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے تصدیق کی کہ انہوں نے خطے میں امریکی بحری بیڑا روانہ کر دیا ہے، تاہم وہ طاقت کے استعمال کو آخری آپشن سمجھتے ہیں۔ ان کے اہم نکات درج ذیل تھے۔ ایران کی جانب بحری بیڑا بھیج دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "بہتر یہی ہوگا کہ ہمیں ان ہتھیاروں کو استعمال نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور معاملات سفارتی سطح پر حل ہو سکیں گے۔چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ اور تجارتی تعلقات پر صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی اتحادیوں کو سخت الفاظ میں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
صدر نے کہا کہ برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے لندن کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔کینیڈا کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "کینیڈا کے لیے چین کے ساتھ تجارت کرنا برطانیہ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات پر تمام اتحادیوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔