اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہماری حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا، جس میں ہم سرخرو ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں برآمد کنندگان (Exporters) اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے معاشی بحالی کا کریڈٹ اپنی ٹیم اور دوست ممالک کو دیا۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ معاشی استحکام کے لیے انتھک محنت کی گئی۔ ملکی معیشت کی بہتری اور سرمایہ کاری کے لیے میں نے اور فیلڈ مارشل نے اہم غیر ملکی دورے کیے۔
برادر ممالک کی حمایت: مشکل ترین وقت میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے پاکستان کا ہاتھ تھاما۔ آج عالمی برادری اور دوست ممالک پاکستان کی معاشی ترقی کو رشک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔شہباز شریف نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا حکومت کا کام تجارت کرنا نہیں بلکہ سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ بزنس نجی شعبے (Private Sector) نے کرنا ہے اور حکومت انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے ملکی معیشت کے مثبت اشاروں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عوامی مشکلات کا ادراک ہے، تاہم اب مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ (Single Digit) میں آ چکی ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی دیکھی جا رہی ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ معاشی استحکام کی اس جدوجہد میں عام آدمی نے بہت زیادہ مشکلات برداشت کی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم اب ایک "مستحکم معیشت" بن چکے ہیں اور اب ہدف پائیدار ترقی اور برآمدات میں اضافہ ہے تاکہ ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکے۔