اسلام آباد: وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز آج دوبارہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ حسین نواز اپنے وکیل کو ساتھ لے کر گئے تھے مگر جے آئی ٹی نے کمرے سے باہر بھیج دیا۔ جی آئی ٹی نے وکیل سے کہا کہ جب ضرورت ہو گی تب آپ کو اندر بلا لیں گے۔ حسین نواز نے وکیل کی غیرموجودگی میں سوالات کے جوابات دیئے۔ حسین نواز شام کو تقریباً ساڑھے چھ گھنٹے جوڈیشل اکیڈمی میں گزارنے کے بعد واپس چلے گئے۔ وزیراعظم کے صاحبزادے نے جے آئی ٹی کو مزید دستاویزات پیش بھی کر دیں۔
جے آئی ٹی کے سامنے سوالات کے جوابات دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا جے آئی ٹی دوبارہ بلائے گی تو حاضر ہو جاؤں گا آج جو سوالات کئے گئے ان کے جواب دیئے اگر مزید سوالات پوچھے گئے تو ان کے بھی جواب دوں گا۔
حسین نواز نے یہ بھی کہا کہ ہم قانونی طریقہ کار کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔ کسی کا رویہ ٹھیک نہیں ہو گا تو وہ یہ توقع نہ کرے کہ عدالت نہیں جاؤں گا انشاء اللہ میرے خاندان کے خلاف کوئی غلط بات ثابت نہیں ہو سکے گی۔
ادھر خاندانی ذرئع کا کہنا ہے کہ حسین نواز بالکل ٹھیک ہیں انہوں نے بھرپور انداز میں اپنے مؤقف کا دفاع کیا۔ صدر نیشنل بینک سعید احمد نے بھی کمیٹی کے سامنے بیان قلمبند کرایا۔ اطلاع ہے کہ نیشنل بینک کے صدر کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اور ان کیلئے جوڈیشل اکیڈمی میں ایمبولینس بھی طلب کی گئی۔
گزشتہ روز پاناما جے آئی ٹی کے دو ممبران پر حسین نواز شریف کے اعتراضات بارے کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں حسین نواز کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ تین رکنی بنچ کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے کسی رکن کو تبدیل نہیں کر رہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ یہ چھ رکنی جے آئی ٹی ہے کسی ایک شخص کی جانبداری اثر انداز نہیں ہو گی جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے حسین نواز کے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا آپ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وزیراعظم کی تفتیش انکی مرضی کی ٹیم کرے۔
سماعت کے دوران تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم کو طلب کیا وہ نہیں آئے۔ ان کے علاوہ صدر نیشنل بینک سعید احمد بھی نہیں آئے۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ محمد بن جاسم نہیں آئے تو قطری خط ردی کی ٹوکری میں پھینکا جا سکتا ہے۔ فاضل بنچ نے یہ بھی قرار دیا کہ جے آئی ٹی کے بلانے پر جو پیش نہیں ہوتا پہلی فرصت میں اس کے قابل ضمانت جبکہ اس کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کریں گے۔
یاد رہے 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔
نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں