Get Alerts

افغانستان میں انصاف کا قتل، عدالتیں یرغمال اور بندوق کا قانون نافذ؛ طالبان نے عدالتی نظام تباہ کر دیا، سابق افغان اٹارنی جنرل کا بڑا دعویٰ

افغانستان میں انصاف کا قتل، عدالتیں یرغمال اور بندوق کا قانون نافذ؛ طالبان نے عدالتی نظام تباہ کر دیا، سابق افغان اٹارنی جنرل کا بڑا دعویٰ

کابل / اسلام آباد : افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان میں قانونی و عدالتی نظام کے مکمل خاتمے، عدالتوں کو یرغمال بنانے اور بندوق کا قانون نافذ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

افغان جریدے ’’اٹلس پریس‘‘ کی شائع کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے سابق اٹارنی جنرل فرید حامدی نے موجودہ عدالتی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان رجیم نے عدالتی اور قانونی اداروں میں اختیارات کی علیحدگی کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کابل کے موجودہ حکمرانوں نے ملک میں قانونی نظام کے بنیادی تصور کو ہی یکسر تباہ کر دیا ہے۔

سابق اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں اداروں کا توازن اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ طالبان رجیم کی نام نہاد عدالتیں اب خود ہی فوجداری مقدمات کی مجرمانہ تحقیقات کرتی ہیں اور خود ہی منصف بن کر فیصلے بھی سنا دیتی ہیں۔ عالمی برادری اور قانونی ماہرین کے مطابق، تفتیش اور فیصلے کا اختیار ایک ہی مقتدرہ کے پاس ہونا انصاف کے بنیادی اصولوں کا سرعام قتل ہے، جس نے پورے افغان معاشرے کو شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔

ٹیگز: