Get Alerts

قومیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جو مستقبل کے لیے حکمت عملی مرتب کرتی ہیں، چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر  چودھری عبدالرحمان

قومیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جو مستقبل کے لیے حکمت عملی مرتب کرتی ہیں، چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر  چودھری عبدالرحمان

پشاور: ایپ سپ کے زیر اہتمام سیکاس یونیورسٹی پشاور میں ’’2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں‘‘ کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ میاں عامر محمود پاکستان کے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے قوم کو ساڑھے 400 کالجز اور 3 بہترین یونیورسٹیاں دیں۔

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ ’’قومیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جو مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ پاکستان کو بنے 80 سال ہو چکے ہیں، لیکن ہمارے ملک میں کرپشن کا گراف بہت زیادہ ہے اور تعلیمی نظام کی حالت بھی بہت خراب ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے اللہ کے نام پر پاکستان بنایا تھا، لیکن ہم اسے بچا نہیں سکے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مستقبل کا تعین کریں اور یہ سوچیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں جانا چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’تبدیلی ہمیشہ مڈل کلاس کے ذریعے آتی ہے۔ اگر مڈل کلاس سامنے نہیں آئے گی تو تبدیلی ممکن نہیں ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں انفرادی طور پر بھی خود کو بہتر کرنا ہوگا تاکہ اجتماعی طور پر ہم اپنے معاشرتی و حکومتی ماڈل کو درست کر سکیں۔‘‘

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے نبی پاک ﷺ کی زندگی کو ایک ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’نبی ﷺ نے اپنے دور میں معاشرتی برائیوں کا مقابلہ کیا، مصیبتیں برداشت کیں اور پھر مکہ کو فتح کیا۔ ہمیں بھی ان کی طرح اپنے کام میں کمی کو دور کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’آج ہمارے معاشرے میں کرپشن، فراڈ اور دھوکا بازی کا کلچر فروغ پا چکا ہے، جو ہمارے ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان کے ادارے کمزور ہیں، ہمیں اپنے گورننس ماڈل کو اجتماعی طور پر بہتر بنانا ہوگا تاکہ ہم کرپشن کی روک تھام کر سکیں اور تعلیمی نظام کو بھی مضبوط بنا سکیں۔‘‘

پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ ’’ہمارے ملک میں 6 لاکھ سے زیادہ اسکولز ہیں جو تعلیم کی روشنی سے منور ہو رہے ہیں، اور اگر ہم نے اپنی حکمت عملی کو درست کیا تو یہ اسکولز ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘

آخر میں انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کو 100 سال کا ہونے میں صرف 20 سال رہ گئے ہیں، اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کا مستقبل سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ میاں عامر محمود نے ایک ایسا نسخہ دیا ہے جس سے آپ کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔‘‘

ٹیگز: