لندن: برطانوی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت دہشت گردی، انتہا پسندی اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کی شہریت فوری طور پر واپس نہیں کی جائے گی۔ "ڈی پرائیویشن آف سٹیزن شپ آرڈرز ایکٹ 2025" کو 27 اکتوبر کو شاہی منظوری مل گئی ہے، اور یہ قانون 2025 کے فروری میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے قانونی خلا کو پُر کرتا ہے۔
نئے قانون کے مطابق، کسی بھی شخص کی شہریت صرف ابتدائی اپیل جیتنے پر بحال نہیں ہو سکے گی، بلکہ اس وقت تک فیصلہ نافذ نہیں ہوگا جب تک تمام اضافی اپیلوں کا عمل مکمل نہ ہو جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے، تو برطانوی حکومت کو اس شخص کو امیگریشن حراست سے آزاد کرنے یا اسے ملک میں واپس آنے کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس قانون میں یہ بھی شق شامل ہے کہ کوئی شخص اپنی دیگر قومیتوں کو ترک کر کے صرف برطانوی شہریت حاصل نہیں کر سکے گا، تاکہ وہ قانونی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ شہریت حاصل نہ کر سکے۔
برطانوی سیکیورٹی وزیر ڈین جاروس (Dan Jarvis) نے کہا کہ حکومت قومی سلامتی کے معاملے میں کسی قسم کا خطرہ نہیں لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے کسی بھی رعایت کا دروازہ بند کرتا ہے۔
حکومت نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ قانون کسی شخص کے اپیل کرنے کے حق کو محدود نہیں کرتا، اور نہ ہی شہریت سے محرومی کی وجوہات میں کوئی اضافہ کرتا ہے۔ یہ قانون انسانی حقوق اور پناہ گزینی کے مقدمات کی طرز پر ہے، جن میں اپیل کے تمام مراحل مکمل ہونے تک حتمی فیصلہ مؤخر رکھا جاتا ہے۔