Get Alerts

غیر ملکی حکمرانی اور ٹونی بلیئر ناقابلِ قبول:حماس کا امریکی امن منصوبے پر ردعمل

 غیر ملکی حکمرانی اور ٹونی بلیئر ناقابلِ قبول:حماس کا امریکی امن منصوبے پر ردعمل

یروشلم:غزہ کی حکمرانی سے متعلق مجوزہ بین الاقوامی امن منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کسی بھی غیر ملکی ادارے کی نگرانی کو مسترد کر دیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک وہ منصوبہ باضابطہ طور پر موصول نہیں ہوا، جس کا ذکر امریکا اور دیگر فریق کر رہے ہیں۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق، ’’جب منصوبہ موصول ہوگا، تو ہم اس کا جائزہ لیں گے اور قوم کے مفاد کے مطابق مؤقف اپنائیں گے۔‘‘

حماس نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو بھی "ناقابل قبول شخصیت" قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کسی غیر ملکی سرپرستی کو قبول نہیں کریں گے۔

تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ہتھیار عوامی دفاع کا حصہ ہیں اور جیسے ہی اسرائیلی قبضہ ختم اور آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوگی، یہ ہتھیار ریاست کے اختیار میں آ جائیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پریس کانفرنس میں ایک 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا جس میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کے تبادلے، غزہ سے مرحلہ وار اسرائیلی انخلا، اور ایک عبوری بین الاقوامی حکومت کی تشکیل جیسے نکات شامل تھے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر حماس نے اس منصوبے کو مسترد کیا، تو امریکا مکمل طور پر اسرائیل کی حمایت کرے گا۔

ٹیگز: