لاہور: گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ سائیکالوجی کے طالب علم فیضان احمد فیض نے قومی ریکارڈ قائم کرنے کے عزم کے ساتھ لاہور سے سکردو تک 1100 کلومیٹر طویل دوڑ کا آغاز کردیا۔
فیضان احمد فیض نے اپنی مہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور شہداء کے نام منسوب کی ہے۔ دوڑ کا آغاز جی سی یو کے تاریخی کلاک ٹاور سے ہوا، جہاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری، طلباء، فیضان کے اہل خانہ، پنجاب پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موجود تھیں۔
فیضان کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے، صحت مند طرز زندگی اپنانے اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ ان کے مطابق صحت مند طرز زندگی سے کھیلوں کے میدان آباد اور ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔
گزشتہ آٹھ سال سے دوڑ کی مشق کرنے والے فیضان احمد فیض کراچی اور پشاور کے نوجوانوں کے قائم کردہ 1000 اور 800 کلومیٹر کے ریکارڈ توڑ کر نیا قومی ریکارڈ قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
منصوبے کے مطابق فیضان روزانہ 60 سے 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گے۔ ان کا روٹ گوجرانوالہ، وزیر آباد، جہلم، راولپنڈی، اسلام آباد، نتھیا گلی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ سے ہوتا ہوا چلاس، رائے کوٹ پل اور جگلوٹ سکردو روڈ کے راستے سکردو تک جائے گا۔
جی سی یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے فیضان کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اپنے طالب علم کے اس مشکل سفر میں ہر قدم پر اس کے ساتھ ہے۔
جی سی یو کے ڈائریکٹر سپورٹس محمد وسیم اختر کے مطابق 1100 کلومیٹر کا یہ سفر کامیابی سے مکمل کرنا پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا اور صحت، استقامت اور قومی فخر کی علامت بنے گا۔