نیویارک : امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سو سالہ تا ریخ پر ایک تنقیدی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں تنظیم کے نظریات، سیاسی اثر و رسوخ اور بھارت کی موجودہ سیاست میں اس کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، آر ایس ایس 1925 میں ایک خفیہ اور نیم عسکری تنظیم کے طور پر قائم ہوئی، جس کا بنیادی نظریہ ہندو قوم پرستی ہے۔ تنظیم کے تربیتی کیمپس فوجی طرز پر تھے اور یہاں مذہبی شناخت کی بنیاد پر نظریاتی تربیت دی جاتی رہی۔
اخبار نے کہا کہ آر ایس ایس کا مقصد بھارت کو ایک ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کرنا بتایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ تنظیم کے بعض رہنما سخت گیر نظریات رکھتے ہیں اور ان کا موازنہ تاریخی نسل پرستی کی مثالوں سے کیا جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے تاریخی حوالوں کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کو ماضی میں آر ایس ایس سے وابستہ شدت پسند سوچ سے جوڑا گیا، حالانکہ تنظیم نے ہمیشہ اس تاثر کی تردید کی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ماضی میں آر ایس ایس سے وابستہ رہے اور ناقدین کے مطابق حکومت کی کئی پالیسیوں پر تنظیم کے نظریات کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ آر ایس ایس اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ بھارتی معاشرے میں نظم و ضبط، حب الوطنی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے نتیجہ اخذ کیا کہ آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا کردار بھارت کے سیکولر تشخص، مذہبی ہم آہنگی اور سیاسی ڈھانچے کے لیے اہم بحث کا موضوع ہے، جس پر ملک کے اندر اور باہر سوالات اٹھ رہے ہیں۔