واشنگٹن/تل ابیب : امریکی میڈیا اور سفارتی حلقوں سے ایسی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران کے حوالے سے ایک نئی اور جارحانہ حکمتِ عملی پر غور کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا محور نہ صرف ایران کی فوجی طاقت کو مفلوج کرنا ہے بلکہ ملک کے اندر ایسے حالات پیدا کرنا ہے جو موجودہ قیادت، بالخصوص آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کے لیے سنگین خطرہ بن جائیں۔
امریکی اخبارات کے مطابق، امریکی دفاعی حکام ایران کے اندر مخصوص اور انتہائی حساس مقامات پر براہِ راست کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے پیچھے دو بڑے مقاصد بتائے جا رہے ہیں۔ ایسے سلسلہ وار حملے کیے جائیں جو ایرانی عوام اور سکیورٹی اداروں میں یہ تاثر پیدا کریں کہ ریاست اب دفاع کے قابل نہیں رہی۔
امریکی منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ ملک میں شدید افراتفری اور انتشار کی صورت میں ایرانی سکیورٹی فورسز یا نظام کے دیگر طاقتور عناصر خود سپریم لیڈر کو ہٹانے یا نظام کی تبدیلی کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکام نے امریکہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مشترکہ فوجی کارروائی کرے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ جب تک ایران کی میزائل سازی اور لانچنگ کی صلاحیت باقی ہے، خطے کے لیے خطرہ برقرار رہے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ ایک ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اس کی سالمیت پر ہونے والے کسی بھی حملے کا جواب انتہائی شدت سے دیا جائے گا، جس میں خلیج فارس اور دیگر مقامات پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔