Get Alerts

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست یا حقیقت؟ رانا ثناء اللہ اور محمود اچکزئی کے اہم بیانات سامنے آ گئے

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست یا حقیقت؟ رانا ثناء اللہ اور محمود اچکزئی کے اہم بیانات سامنے آ گئے

اسلام آباد : بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور طبی معائنے کے حوالے سے جاری تنازع پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے متضاد بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کے تحفظات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو پمز (PIMS) ہسپتال کے ڈاکٹروں یا طبی سہولیات پر اعتماد نہیں ہے، تو انہیں چاہیے کہ وہ سیاسی واویلا کرنے کے بجائے عدالت میں اس کا اظہار کریں۔

 رانا ثناء اللہ نے زور دیا کہ پی ٹی آئی کو ایک سنجیدہ سیاسی جماعت کی طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ طبی معاملات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا ہی بہتر حل ہے۔

دوسری جانب، اپوزیشن اتحاد کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے جاری خبروں کو "پروپیگنڈا" قرار دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔

 محمود اچکزئی کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اتنی خراب نہیں ہے جتنا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ محمود اچکزئی خود پی ٹی آئی کے قریبی سیاسی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کے اس بیان سے پارٹی کے اندرونی یا اتحادی اختلافات کی بو آ رہی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں، جبکہ حکومتی وزراء اور اب بعض اتحادی رہنما ان دعوؤں کی تردید کر رہے ہیں۔

ٹیگز: