Get Alerts

ایران امریکہ کشیدگی: پاکستان کی ثالثی کی پیشکش، افغان سرحد پر سخت کارروائیوں کا دفاع

ایران امریکہ کشیدگی: پاکستان کی ثالثی کی پیشکش، افغان سرحد پر سخت کارروائیوں کا دفاع

واشنگٹن : امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک فعال ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے کے وسیع تر مفاد میں کی جانے والی اس پیشکش پر دونوں فریقین نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں سفیر پاکستان نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات انتہائی پیچیدہ ہیں، تاہم پاکستان اپنی دیرینہ روایات کے مطابق امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان علاقائی شراکت داری   عمل میں اکیلا نہیں بلکہ دیگر علاقائی ممالک کو بھی اعتماد میں لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔
   پاکستان بات چیت کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا، البتہ حتمی فیصلوں کا اختیار متعلقہ فریقین کے پاس ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارت کاری میں نتائج فوری نہیں آتے، اس لیے صبر اور تسلسل کی ضرورت ہے۔افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ   پاکستان سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہے۔ افغان حکومت کو بارہا یاد دہانیوں کے باوجود جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی، تو پاکستان کو اپنی بقا اور دفاع کے لیے خود اقدامات کرنے پڑے۔
سفیر پاکستان نے خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ بھارتی مداخلت کو قرار دیا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے پاس ایسے واضح ثبوت موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو بھارتی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے۔

ٹیگز: