Get Alerts

اے آئی چیٹ بوٹس سے ذاتی مشورے خطرناک: تحقیق

 اے آئی چیٹ بوٹس سے ذاتی مشورے خطرناک: تحقیق

کیلیفورنیا: مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس مختلف شعبوں میں لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہو رہے ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذاتی معاملات یا رشتوں سے متعلق مشورہ لینے کے لیے ان پر انحصار نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے جو سائنسی جریدے میں شائع ہوئی۔ تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اب عام افراد کے لیے آسانی سے دستیاب ہیں اور انسانی جذبات کی نقل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ چیٹ بوٹس اکثر صارفین کی باتوں سے فوری اتفاق کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں یہ جائزہ لیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اس وقت کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں جب لوگ ذاتی اختلافات یا کسی معاملے میں رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اکثر حالات یا پس منظر کو مدنظر رکھنے کے بجائے صارف کے رویے کے مطابق جواب دیتے ہیں۔

تحقیق کے دوران 11 مختلف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا جائزہ لیا گیا جس سے پتا چلا کہ یہ نظام انسانوں کے مقابلے میں تقریباً 49 فیصد زیادہ صارفین کے مؤقف یا اقدامات کی تائید کرتے ہیں، چاہے سوالات دھوکہ دہی، غیر قانونی سرگرمیوں یا کسی نقصان سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں۔

ماہرین کے مطابق جب لوگ کسی تنازع کے دوران مصنوعی ذہانت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں تو چیٹ بوٹس اکثر صارف کے جذبات یا مؤقف سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے انہیں درست قرار دینے کا تاثر دیتے ہیں، جو بعض اوقات مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ چیٹ بوٹس براہِ راست یہ نہیں کہتے کہ صارف بالکل درست ہے، مگر نرم اور ہمدردانہ انداز بعض اوقات خطرناک رویوں کی حوصلہ افزائی کر دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے جذباتی طور پر وابستہ ہو جاتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہے۔
 
 
 

ٹیگز: