کیلیفورنیا : خفیہ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ میٹا (پہلے فیس بک کے نام سے معروف) ایک ایسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت کمپنی کے تیار کردہ چیٹ بوٹس خود صارفین کو پیغامات بھیج کر انہیں مصروف رکھیں گے، تاکہ میٹا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی انگیجمنٹ بڑھائی جا سکے۔
بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق، میٹا ایک ڈیٹا لیبلنگ کمپنی Alignerr کے ساتھ مل کر ایسے چیٹ بوٹس تیار کر رہا ہے جو صارفین سے خود رابطہ کریں گے اور ماضی کی گفتگو کو یاد رکھ سکیں گے۔ مثال کے طور پر، ایک چیٹ بوٹ صارف کو میسیج کرے گا کہ: "مجھے امید ہے آپ کا دن خوشگوار گزر رہا ہوگا، کیا آپ نے حال ہی میں کوئی نیا گانا یا موسیقار دریافت کیا؟ اگر آپ فلم نائٹ کے لیے تجویز چاہتے ہیں تو میں مدد کے لیے حاضر ہوں۔"
رپورٹ کے مطابق یہ چیٹ بوٹس صرف ان صارفین کو فالو اپ پیغامات بھیجیں گے جنہوں نے ابتدائی گفتگو کے دوران کم از کم پانچ پیغامات بھیجے ہوں۔ اگر فالو اپ کے بعد صارف جواب نہ دے تو مزید پیغامات نہیں بھیجے جائیں گے۔
اس کے علاوہ، صارفین خود بھی اپنے پرائیویٹ چیٹ بوٹس بنا سکیں گے جنہیں وہ انسٹاگرام، فیس بک پروفائل، سٹوریز یا لنکس کے ذریعے دوسروں کے ساتھ شیئر کر سکیں گے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صارفین کو دلچسپ موضوعات پر بامعنی بات چیت کا موقع فراہم کرنا ہے۔
یہ منصوبہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مستقبل میں واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام پر صارفین کو اپنی مرضی کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس بنانے کی سہولت ملے گی، اور کمپنی کی جانب سے بنائے گئے بوٹس صارف کی اجازت کے بغیر پیغامات بھیج سکیں گے، تاہم اگر صارف نے جواب نہ دیا تو یہ پیغام رسانی بند کر دی جائے گی۔