واشنگٹن / سنگاپور:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے جلد خاتمے اور ایران سے فوجی انخلا کے بیان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بدھ کے روز ٹریڈنگ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 3 فیصد تک گر گئیں، جس کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ شب واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر متوقع اعلان کیا کہ امریکہ "بہت جلد" ایران سے اپنی فوجیں نکال لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں آئندہ دو سے تین ہفتوں میں مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے عالمی سرمایہ کاروں میں پھیلی بے یقینی کو ختم کیا، جس کا فوری اثر تیل کی قیمتوں پر پڑا۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا 20 فیصد گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے اس اہم بحری راستے کی مؤثر بندش نے سپلائی چین کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد قیمتوں میں فوری طور پر 3 فیصد کمی واقع ہوئی۔خام تیل کی قیمت اب 100 ڈالر فی بیرل کے اہم سنگِ میل کے قریب ہے۔ اگرچہ فوجی کارروائیاں ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن جب تک آبنائے ہرمز سے سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں ہوتی، قیمتوں میں بڑی گراوٹ آنا مشکل نظر آتا ہے۔