Get Alerts

پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال غیر قانونی، سلامتی کے لیے خطرہ

پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال غیر قانونی، سلامتی کے لیے خطرہ
پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال غیر قانونی، سلامتی کے لیے خطرہ
پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال غیر قانونی، سلامتی کے لیے خطرہ
پاکستان میں غیر رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال غیر قانونی، سلامتی کے لیے خطرہ

اسلام آباد:پاکستان میں وی پی این کو پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹر کرنا لازمی ہے اور بغیر اجازت وی پی این کا استعمال قانون کی خلاف ورزی ہے۔ چیئرمین پاشا آئی ٹی سجاد سید نے بتایا کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این دہشت گرد، غیر ملکی ایجنٹس، مجرم اور انتہا پسند گروپ آن لائن پوشیدہ رہنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ غیر قانونی VPNs حملوں کی منصوبہ بندی، افواہیں اور پروپیگنڈا پھیلانے، غیر قانونی سرگرمیوں کی حمایت اور پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔سجاد سید نے مزید خبردار کیا کہ غیر مصدقہ یا غیر رجسٹرڈ وی پی این استعمال کرنے سے صارفین کا ڈیٹا ہیکرز اور آن لائن حملہ آوروں کے لیے محفوظ نہیں رہتا۔

مزید برآں سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں استعمال ہونے والے مفت اور غیر رجسٹرڈ وی پی این سنگین سائبر خطرات کا باعث بن رہے ہیں، جو شہریوں کا ذاتی ڈیٹا ہیکرز، سکیمرز اور بیرونی نگرانی کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر ماہرین اور متعلقہ اداروں نے زور دیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) فوری طور پر تمام مفت اور غیر رجسٹرڈ وی پی این پر مکمل پابندی عائد کرے اور صرف لائسنس یافتہ، سیکیورٹی سے تصدیق شدہ وی پی این سروسز کے استعمال کی اجازت دے۔

رپورٹس کے مطابق مفت وی پی این اکثر خفیہ طور پر صارفین کا ڈیٹا لاگ کر کے اسے فروخت کرتے ہیں، جب کہ غیر رجسٹرڈ وی پی این کو ہیکرز، سائبر کرائم نیٹ ورکس اور ملک دشمن عناصر آسانی سے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے غیر محفوظ وی پی این نہ صرف شہریوں کی پرائیویسی اور مالی معلومات کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ قومی سائبر ڈیفنس کو بھی کمزور کرتے ہیں۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق حکومت اور پی ٹی اے کو چاہیے کہ تمام غیر رجسٹرڈ اور مفت وی پی این کے آئی پی ایڈریسز بلاک کریں، جب کہ خلاف ورزی کرنے والے صارفین کو جرمانے، سروس معطلی یا تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ کاروباری ادارے جو غیر رجسٹرڈ وی پی این استعمال کر رہے ہیں، نہ صرف قانونی مشکلات میں پھنس سکتے ہیں بلکہ ان کے آپریشنل نظام اور ڈیٹا سیکیورٹی کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کے برعکس، رجسٹرڈ اور محفوظ وی پی این کا استعمال پرائیویسی، مالی تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے۔

علاقائی حالات کے تناظر میں بھارت، یو اے ای، سعودی عرب اور بنگلہ دیش جیسے ممالک پہلے ہی غیر مجاز وی پی اینز پر سخت پابندیاں نافذ کر چکے ہیں، جس کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے بھی ایسی ہی پالیسی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ٹیگز: